Home / جرائم / استاد پر تشدد کا الزام : ملتان کی 8 سالہ ماہ نور کی موت دراصل کیسے ہوئی ؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حقیقت سامنے آنے پر تفتیشی افسران اور شہریوں سبھی نے سر پکڑ لیے

استاد پر تشدد کا الزام : ملتان کی 8 سالہ ماہ نور کی موت دراصل کیسے ہوئی ؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حقیقت سامنے آنے پر تفتیشی افسران اور شہریوں سبھی نے سر پکڑ لیے

ملتان (ویب ڈیسک) معلم کے مبینہ تشدد سے نشتر ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی آٹھ سالہ ماہ نور فاطمہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ چار رکنی کمیٹی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کو آج پیش کرے گی۔ چار رکنی کمیٹی کے سربراہ پروفیسر عمر فاروق احمد ہیں جبکہ
ممبران میں ڈاکٹر مشتاق احمد ڈاکٹر محمد سلیم شیخ‘ ڈاکٹر طارق سعید پیرزادہ شامل ہیں۔ کمیٹی نے پوسٹ مارٹم کے بعد اپنی رپورٹ میں موت کی وجہ تشنج کو قرار دیا ہے۔ تشنج ٹانگوں سے شروع ہوا اور آہستہ آہستہ اس نے ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتے ہوئے گردن کے پٹھوں کو اکڑاؤ کے ذریعے مفلوج کردیا۔ پوسٹ مارٹم میں کہیں بھی تشدد کی علامات نہیں نظر آتیں۔ کمشنر ملتان ندیم ارشاد کیانی نے واقعے کے حقائق جاننے کے لئے 3 رکنی کمیٹی بنائی تھی جو اپنی رپورٹ 3 روز میں کمشنر کو جمع کروائے گی کمیٹی میں ایڈیشنل کمشنر کوارڈینیشن سرفراز احمد‘ اسسٹنٹ کمشنر آغا ظہیر شیرازی اور پروفیسر ڈاکٹر کاشف چشتی شامل ہیں۔مختلف واقعات میں خاتون اور 4 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا ۔بچیانہ سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق 15سالہ اوباش نے 7سالہ گونگی بہری بچی کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ نواحی گائوں چک نمبر625گ ب جگاتن کے قمر عباس کی 7سالہ گونگی بہری بچی صدف بازار میں کھیل رہی تھی کہ ملزم عطاء اللہ اسے اپنی حویلی میں لے لیا اور ہوس کا نشانہ بناڈالا۔ بچی کی چیخ و پکار پر اہل محلہ پہنچ گئے جنہیں دیکھتے ہی عطاء اللہ گونگی بہری بچی
کو چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ ایس پی جڑانوالہ ٹائون نے کہا ہے کہ بچی پر ظلم کرنے والا قانونی کے شکنجے سے بچ نہیں پائے گا ۔ سرائے مغل کے نواحی پڈھانہ میں یوسف کا 12 سالہ بیٹا علی رضا گھر میں اکیلا کھیل رہا تھا کہ اوباش شہباز بہلا پھسلا کر کھیتوں میں لے گیا اور زیادتی کر ڈالی ۔تھا نہ صدر مر ید کے کی نو ا حی آبا د ی ٹبہ کو ٹ یعقو ب میں ملزم عا بد نے چا ر سا لہ عر و ج فا طمہ کو گھر میں ا کیلا پا کر مبینہ طو ر پر ز یادتی کا نشا نہ بنا یا پو لیس نے مقد مہ درج کر کے ملز م کو گرفتارکر لیا ہے پولیس کے مطا بق میڈ یکل ر پو رٹ میں زیادتی ثابت نہیں ہوئی ملزم اور مدعی پارٹی آپس میں ر شتہ د ا ر ہیں ا ن کے د ر میا ن جا ئید ا د کا تنا زع چل رہا ہے بچی سے ز یادتی کاخو د ساختہ واقعہ بنا یا گیا ہے۔ چک امرو میں شکرگڑھ محلہ افضل پورہ کی رہائشی گلشن شہزادی ننھیال بکروال سے نانی کے ہمراہ واپس آرہی تھی۔ نامعلوم ملزمان کے اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ ساہیوال میں مسلم ٹائون کے رانا عرفان کے بیٹے نویں جماعت کے طالبعلم سفیان کو ورغلا کر اس کے دو دوست شہباز اور زین لے گئے، نشہ آور چیز پلا کر بے ہوشی کی حالت میں زیادتی کے بعد نہر 9 ایل میں پھینک دیا۔

Check Also

نیب کالا قانون ہے اسے ختم ہونا چاہیے: شاہد خاقان عباسی

لاہور: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہےکہ نیب کالا قانون ہے اسے ختم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook IconYouTube Icon